| میرے دل میں نُورِ حق کی روشنی باقی رہے |
| مصطفیٰ سے عِشق کی یہ تازگی باقی رہے |
| ذِکر سے آباد ہو جائے مرے دل کا چمن |
| ہر گھڑی لُطفِ حضوری کی خوشی باقی رہے |
| اپنے مرشد کی نِگاہِ لُطف کا مرکز رہوں |
| راہِ حق میں ان کی مجھ پر رہبری باقی رہے |
| نفس کے طوفان تھم جائیں، رہے مغلوب یہ |
| بس رِضائے کبریا کی بندگی باقی رہے |
| عِشقِ احمد ﷺ زندگی کا اصل سرمایہ بنے |
| حُبِّ آلِ مصطفیٰ کی چاشنی باقی رہے |
| ہر قدم پر شکر ہو، ہر سانس یادِ حق میں ہو |
| لب پہ حَمدِ کبریا اور عاجزی باقی رہے |
| اے عتیقؔ اپنے خدا سے التجا کرتے رہو |
| ان کے در کی خاک سے وابستگی باقی رہے |
معلومات