چار سو خفیہ شعاعوں نے بچھا رکھے ہیں جال
جراتِ فکر و عمل بن گئی نا گفتہ سوال
تم کو فرصت ہے کہاں حال مرا جان سکو
میں بھی مصروف ہوں ایسا کہ نہیں اپنا خیال
بر ملا سب سے ملاقات ہوا کرتی تھی
اب دعا گوئیِ بر خط بھی ہے اک کارِ محال
کتنے خدشات کے پہرے میں ہے دھڑکن میری
خون دل جوش میں آ جائے نہیں اس کی مجال
عمر برباد ہوئی کارِ نمایاں کے لئے
اور جو ہو نہ سکا اس نے کیا  ہم کو نڈھال
شاعری وجہِ مسرت رہی تنہائی کی
لے گیا چھین کے اس کو غمِ دنیا کا وبال
ہاں مشینیں ہی مری مرشدِ برحق ٹھہریں
طاق پر رکھی کتابوں سے نکالی ہے یہ فال

0
8