کبھی یہ سوچ رکھا تھا، کبھی فرصت ملے گی تو
کسی دن زندگی اپنی بھی کچھ فرصت سے دیکھیں گے
ابھی تو قرض ہیں، رشتے ہیں، وعدے ہیں، تقاضے ہیں
کبھی ان سب سے فرصت ہو تو اپنی سمت دیکھیں گے
پرانے کاغذوں میں آج اک سوکھا ہوا گل تھا
وہی جو میں نے برسوں قبل اک موسم سے مانگا تھا
مجھے معلوم تھا اس کی مہک محفوظ کب ہوگی
مگر میں نے اسے اپنے کسی کل تک سنبھالا تھا
عجب یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر افسوس بھی کم تھا
نہ اس کی بے مہک صورت پہ کوئی اشک آیا تھا
میں جس خواہش کے مر جانے پہ ماتم کرنے والا تھا
وہ خواہش مر چکی تھی، اور مجھے معلوم تک نہ تھا

0
2