| معراج رات آقا قادر کے گھر رہے |
| ٹھہرے نظامِ ہستی قائم مگر رہے |
| قرآن کہہ رہا ہے سارا یہ ماجرا |
| معراجِ مصطفیٰ یوں تازہ خبر رہے |
| اس رات نوریوں نے سدرہ کیا مقام |
| لیکن سفر میں کوشاں خیر البشر رہے |
| نظروں سے مصطفیٰ کی کچھ بھی نہاں نہ تھا |
| قصرِ دنیٰ میں لیکن یہ جلوہ گر رہے |
| ما ذاغ ہے وہ سرمہ آنکھوں میں جو لگا |
| تاکہ تمام منظر پیشِ نظر رہے |
| تحفے ملے جو اُن کو اس میں صلاۃ ہے |
| قائم کرے جو اس کو وہ با خبر رہے |
| اُن کے حسن سے گردوں مستی میں آ گیا |
| بردوں میں اُن کے شامل شمس و قمر رہے |
| تاباں بہشت سے ہے کوچہ حبیب کا |
| محمود بندہ اُن کا اُن کے نگر رہے |
معلومات