خدا کی قسم میرا ایمان تو ہے
خدا کی محبت کا عنوان تو ہے
مرے دل کی دھڑکن میں ہے جس کا چرچا
مری سانس میں اُس کا اعلان تو ہے
زمانے کی ٹھوکر نے توڑا ہے مجھ کو
مگر پھر بھی جینے کا پیمان تو ہے
میں خالی ہوں اعمالِ ظاہر میں بے شک
نہاں خانۂ دل کا عرفان تو ہے
خطاؤں کی دلدل میں ہوں میں اگر چہ
مگر لوحِ دل پر وہ قرآن تو ہے
عتیقؔ اُن کی چوکھٹ پہ سر رکھ کے کہہ دے
وہ رحمت کا دریا، مہر بان تو ہے

0
4