مجھے اپنی ذات کے دشت میں کسی ہم سفر کی تلاش ہے
جو مجھے مجھی سے ملا سکے، اسی رہ گزر کی تلاش ہے
نہ وہ علم جو مرے ذہن میں فقط اپنے سچ کا اسیر ہو
جو مرے یقیں کو پرکھ سکے، مجھے اس نظر کی تلاش ہے
مجھے اس رفیق کی آرزو جو مرے سکوت کو سن سکے
جو مری نگاہ میں غم پڑھے، مجھے اس بشر کی تلاش ہے
نہ وہ عشق جس میں اسیر ہوں، نہ وہ قرب جس میں حصار ہو
جو مجھے مری ہی خبر بھی دے، مجھے اس ہنر کی تلاش ہے
مرے چار سو کئی آئنے، کئی رنگ ہیں، بڑی روشنی
جو نقابِ عکس ہٹا سکے، مجھے اس سحر کی تلاش ہے
کئی منزلوں سے گزر گیا، کئی راستوں کو بدل دیا
جو سفر کو معنی عطا کرے، اسی راہبر کی تلاش ہے
نہ شکست سے مجھے خوف ہو، نہ ہی فتح کا کوئی زعم ہو
جو دکھائے مجھ کو مری خطا، مجھے اس نظر کی تلاش ہے
نہ کسی کی داد کی آرزو، نہ کسی کمال کا زعم ہے
میں کبھی جو خود سے بچھڑ گیا، مجھے اپنے گھر کی تلاش ہے

0
4