بابِ نبی سے ناتا نعتِ رسول ہے
حسنین شیرِ یزداں بی بی بتول ہے
عکسِ جمالِ یزداں حسنِ حضور میں
گھوڑے یہاں خرد کے دوڑیں فضول ہے
اُن کے جمال پر ہے پردہ رکھا گیا
بارانِ کرم جن سے کرتا نزول ہے
راہِ نبی پہ حاصل فوزِ عظیم تر
سرمہ نظر کو جن کے قدموں سے دھول ہے
کون و مکاں زماں پر رحمت رسول کی
ممنون جس کرم کا ہر عرض و طول ہے
خُلقِ عظیم اُن کو کہتا ہے کبریا
اخلاقِ مصطفائی اعلیٰ اصول ہے
طاغوت ہے پریشاں اُن کے ورود سے
امت سے خلد بھرنا جن کا حصول ہے
محمود خلق ساری مشکور مصطفیٰ
ابلیس جس سے رہتا بے حد ملول ہے

1
3
مختصر خلاصہ
یہ نعت رسولِ اکرم ﷺ کے حسن، رحمت، اخلاق اور عظمتِ خاندانِ نبویؐ کو بیان کرتی ہے۔ شاعر بتاتا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات سراسر رحمت ہے، آپ ﷺ کی اتباع میں ہی اصل کامیابی ہے، اور آپ ﷺ کی آمد سے باطل مٹ جاتا ہے جبکہ ساری مخلوق آپ ﷺ کی شکر گزار ہے۔

0