| ہم اپنے شکستہ خوابوں کو ہر روز سنوارا کرتے ہیں |
| پھر شام ڈھلے ان خوابوں کا چپ چاب نظارا کرتے ہیں |
| جب شہر کی ساری آوازیں تھک ہار کے بس سو جاتی ہیں |
| ہم دل کی پرانی گلیوں میں اک نام پکارا کرتے ہیں |
| کچھ لوگ ملیں تو لگتا ہے یہ دنیا ابھی تک اچھی ہے |
| وہ چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہر دن کو نکھارا کرتے ہیں |
| میں بات ادھوری چھوڑ بھی دوں، وہ پوری بات سمجھتا ہے |
| ہم اس کے پاس جو بیٹھیں تو دل کا بوجھ اتارا کرتے ہیں |
| جو مشکل وقت میں ساتھ نہ دیں ان سے پھر شکوہ کرنا کیا |
| ہم ان کے بدلے رویے کو خاموش گوارا کرتے ہیں |
| شاہدؔ جب کوئی اپنا تھک کر چپ چاپ ہمارے پاس آئے |
| ہم دنیا بھر کی باتوں سے اس وقت کنارا کرتے ہیں |
معلومات