عمارت حوصلوں کی صبر سے تعمیر کرنا ہے
ہمیں خوابوں کی خود ہی دوستو! تعبیر کرنا ہے
یہ دھرتی مان ہے اپنا یہی پہچان ہے اپنی
اِسے آباد رکھنا ہے اِسے تطہیر کرنا ہے
تمہارا نام لکھنا ہے در و دیوار پر اپنے
ہمیں افسانہ اُلفت کا کوئی تحریر کرنا ہے
پَری پیکر ہے تُو اور خوبصورت ہے مری جاناں
تجھے اپنا بنانا ہے تجھے تصویر کرنا ہے
مَیں رانجھا ہوں ترا اور بانسری کے سُر مَیں چھیڑوں گا
مجھے جاویدؔ ! تجھ کو دِل کی اپنے ہیر کرنا ہے