| جس بھی جانب میں نے دیکھا تجھے محسوس کِیا |
| زرّے زرّے میں نمایا ہے ترا ہی جلوہ |
| حال بگڑا ہے نہ بدلے گا دعا سے میرا |
| پھیر دے ہاتھ مرے سر پہ عیادت کو تو آ |
| ہو بہ ہو تیرے ہی جیسی ہے آتی ہی نہیں |
| منتظر عمر سے بیٹھے ہیں کہ آجاۓ قضا |
| ہو گۓ محوِ تمنا ہمیں کچھ ہوش نہیں |
| گر یہ آغاز ہے انجام بتا کیا ہو گا |
| مجھ کو حاصل جو نہیں قرب ترا یوں ہی سہی |
| رب کی مرضی ہی میں آخر ہے مسلماں کی رضا |
| اپنے اعمال پہ رونا ہے لکھا قسمت میں |
| حسبِ توفیق مجھے غم کے سوا کچھ نہ ملا |
| کیا مجازی کیا حقیقی مجھے معلوم نہیں |
| عشق نے جب سے نوازا ہے میں شاعر ہو گیا |
معلومات