ہو نگاہِ لطف و کرم سدا ترا آدمی ہے لٹا ہوا
رہے آبرو مرے رہنما یہ ابھی ہے راہ بھلا ہوا
مرے دل میں آ کے سما زرا اسے مثلِ عرش بنا زرا
ترا جلوہ جلوہِ حق ہوا ترا نور نورِ خدا ہوا
تری چاہ نے وہ ستم کیا میں یونہی جہاں سے گزر گیا
ترے ہجر میں رہا مبتلا ترے درد سے نہ رہا ہوا
مرے دل کا شوق یہی رہا مجھے دیکھ ایک نظر زرا
ترا رند ہے مرے ساقیا ترے مے کدے میں پڑا ہوا
تری یاد دل میں رہی سدا کوئی غیر اس میں نہ آ سکا
میں نے دشت دیکھا چمن گیا تری ذات سے نہ جدا ہوا
تری چاہ ہے جو عبا ہوئی تری بات ہے جو شفا ہوئی
تری چشم ہے جو دعا ہوئی ترا ذکر ہے جو دوا ہوا
اسے طور جان چکا ہوں میں اسے کعبہ مان چکا ہوں میں
ترے آستاں پہ اسی لیے میں نے اپنا سر ہے دھرا ہوا
مجھے مار دے کہ اُبھار دے مجھے ٹھیک رکھ کہ بگاڑ دے
تو جو چاہے وہ مرے ساتھ کر سرِ شاہدؔ اب ہے جھکا ہوا

0
1