لمحہ لمحہ مانگتا ہوں، میں عطائے مصطفٰیؐ
ایک دن مل جائے گی، مُجھ کو رضائے مصطفٰیؐ
مُجھ کو مولا کر عطا، ایسی ثنائے مصطفٰیؐ
جس کے صدقے ہو عطا، مُجھ کو رِدائے مصطفٰیؐ
اس تمنا کے علاوہ کوئی حسرت اب نہیں
نقش میری خاک پر ہو جائے پائے مصطفٰیؐ
ہاتھ میں ہے گنجِ رحمت اور "یَدُ اللّٰہ" ہاتھ ہیں
ہر گَھڑی ہے دَستِ مولا، بَر گَدائے مصطفٰیؐ
"کُنْتُ کَنْزاً" کی مُحبت، ہے ولایت کی ضِیا
تا اَبد ہے فیض پَرور، یہ ولائے مصطفٰیؐ
رب کے نائبؐ در حقیقت، کامِلِ انسان ہیں
کاملیّت کے مَراتب، ہیں بَرائے مصطفٰیؐ
اسمِ احمدؐ اور محمدؐ، حامد و محمود ہیں
حمد باری کا پَھریرا، ہے لِوائے مُصطفٰیؐ
میم کے پردے میں ظاہر، ہیں صفاتِ ذُوالجلال
عکسِ اَسمائے اِلٰہی، ہے اَدائے مصطفٰیؐ
گامزن ہے رفعتوں پر نُورِ روحِ مصطفٰیؐ
بڑھ رہی ہے لمحہ لمحہ، یہ ضیائے مصطفٰیؐ
ہر دو عالم ہیں محمدؐ مصطفیٰ پر جاں نثار
یہ غُلامِ ناتواں بھی، ہے فِدائے مصطفٰیؐ

0
21