زمین و آسماں پر ہے حکومت غوث اعظم کی
ملی ہے اذنِ حق سے یہ امامت غوث اعظم کی
جھکائے سر کھڑے ہیں اولیاءِ دہر محفل میں
سبھی ولیوں کے سر پر ہے ولایت غوث اعظم کی
جو آیا چوری کرنے اس کو مسند پر بٹھا ڈالا
عجب دیکھی زمانے نے عدالت غوث اعظم کی
سکھایا ہے جنہوں نے ہر قدم پر دین کا رستہ
دلوں کو جیت لیتی ہے صداقت غوث اعظم کی
سگِ در غوثِ اعظم کی ذرا ہیبت کو تم دیکھو
جو شیروں کو نگل جائے کرامت غوث اعظم کی
خزاں چھو بھی نہ پائے گی کبھی تیرے چمن کو گل
ملی ہے تجھ کو دامن میں حفاظت غوث اعظم کی

0