| گھر کے آنگن میں لگا بیٹھا ہوں |
| پیڑ کانٹوں کا اُگا بیٹھا ہوں |
| درد ہی درد مرے دل میں ہے |
| عشق میں دھوکہ جو کھا بیٹھا ہوں |
| دل کے زخموں کو چھپا بیٹھا ہوں |
| خود ہی خود کو میں بھلا بیٹھا ہوں |
| یاد آتی ہے تو جل اٹھتا ہوں |
| راکھ خوابوں کی بنا بیٹھا ہوں |
| اب نہ شکوہ ہے نہ امید کوئی |
| میں تو بس خود کو گنوا بیٹھا ہوں |
| کون سمجھے گا مری خاموشی |
| میں تو لفظوں کو دبا بیٹھا ہوں |
معلومات