| کیوں ڈراتے ہو تم کالی دیوار سے |
| ہم تو ڈرتے نہیں تیر و تلوار سے |
| سر پھرے تو کٹائیں گے سر جنگ میں |
| کون ڈرتا ہے ظالم ترے وار سے |
| کیوں تماشے کا دنیا کو موقع دیا |
| کچھ نہیں سیکھ پائے ہو اغیار سے |
| جانشیں ہیں ضیا کے مسلط یہاں |
| ہے قیامت بپا ان کے کردار سے |
| لوگ کہتے ہیں ظالم کا چلتا ہے زور |
| ہارتا ہے مگر وقت کے وار سے |
| اب نیا دور ہے اور نئے لوگ ہیں |
| اب ڈرے گا نہ کوئی بھی ہتھیار سے |
معلومات