| آتے ہیں اس مقام پہ مشکل سے چند لوگ |
| آئے جسے ہو دیکھنا یہ ہیں بلند لوگ |
| دنیا فقط بناتے ہیں دنیا میں بے وقوف |
| عقبی سنوارتے ہیں یہاں عقلمند لوگ |
| یوں تو ہمارے شہر میں لوگوں کی بھیڑ ہے |
| اہل نظر ہیں شہر میں معدودے چند لوگ |
| باہر نہ جا سکیں گے کبھی کائنات سے |
| ڈالیں خلاؤں پر بھلے جتنا کمند لوگ |
| مذہب نہ ذات دیکھیے بس کام آیۓ |
| مل جائیں گر کہیں بھی تمہیں درد مند لوگ |
| خاکی بدن ہے خاک ہی ہونا ہے ایک روز |
| کرتے ہیں پھر نہ جانے کیوں اتنا گھمنڈ لوگ |
| دشواریوں کو کرتے ہیں آسان اس لیے |
| مجھ کو بہت پسند ہیں مشکل پسند لوگ |
| ازہر کلام کرنا واں ہمت کی بات ہے |
| کر لیں سبھی زبان جہاں پر کہ بند لوگ |
معلومات