تم ہنس دو تو دن کا بوجھ بھی ہلکا لگتا ہے
تم چپ ہو تو روشن کمرہ تنہا لگتا ہے
دن بھر کی سب باتیں تم سے کہہ لیتا ہوں میں
تم سے چپ رہنا بھی مجھ کو پیارا لگتا ہے
دن بھر کی سب الجھن لے کر گھر جب آتا ہوں
تم کو در پر دیکھ کے گھر بھی گھر سا لگتا ہے
اتنے برسوں بعد جو تم نے تھاما میرا ہاتھ
مجھ کو دل کے اندر کچھ کچھ بدلا لگتا ہے
تم سے باتیں کرتے چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے
تم بن گرم پیالہ بھی کچھ پھیکا لگتا ہے
کل تم نے جو ہنس کر میرا نام پکارا تھا
اپنا نام اب شاہدؔ مجھ کو اچھا لگتا ہے

0
3