جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے
غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے
تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ
جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے
رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو
دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے
جو چمکا جہالت کی تاریکیوں میں
کہ علم و عمل کا وہ روشن دیا تھے
ہمیں یاد آؤ گے ایدھی ہمیشہ
گھٹن کی فضاؤں میں بادِ صبا تھے

0
5