| جہانِ عمل میں تمھی پیشوا تھے |
| غریبوں یتیموں کا تم آسرا تھے |
| تھے بے لوث خدمت کا تم اک حوالہ |
| جفا گر جہاں میں سفیرِ وفا تھے |
| رعایا کے زخموں کا مرہم تھے تم تو |
| دکھی آدمیت کے لب کی دعا تھے |
| جو چمکا جہالت کی تاریکیوں میں |
| کہ علم و عمل کا وہ روشن دیا تھے |
| ہمیں یاد آؤ گے ایدھی ہمیشہ |
| گھٹن کی فضاؤں میں بادِ صبا تھے |
معلومات