بچھڑنے کے غم میں کہیں مر نہ جاؤں
ترے ہجر میں آج کچھ کر نہ جاؤں
سمیٹو مجھے میں بکھرنے لگا ہوں
اندھیروں کی رت میں اترنے لگا ہوں
دعا بھی زباں سے نکلتی نہیں ہے
مگر ساتھ میرے تو چلتی نہیں ہے
تڑپ دید کی ہے تو آ کے مٹا دے
نہیں تو مجھے آج اپنا پتا دے
تصور میں تصویر اب تک ہے تیری
یہ دل میرا جاگیر اب تک ہے تیری
تو جاگیر اپنی کو آباد کر لے
خود آ جا یہاں یا مجھے یاد کر لے
بھروسہ نہیں زندگانی کا اب تو
دیا آخری ہے کہانی کا اب تو
مرے نام اب تو کوئی شام کر دے
حسیں اس کہانی کا انجام کر دے

0
3