گرد اٹھتی جا رہی ہے
آنکھ بھی دھندلا رہی ہے
اس کی بھی تشریح تو کر
ریت دریا کھا رہی ہے
میں نے جس چڑیا کو پالا
مجھ سے کیوں گھبرا رہی ہے
تشنہ شب میں تیری دوری
مجھ کو زندہ کھا رہی ہے
خوشبو تیری زلفوں کی اب
کس کے گھر مہکا رہی ہے
قیس تیری خامشی اب
لب پہ آخر آ رہی ہے

0
6