| ویسے تو کرنے کو کیا نہیں ہو سکتا |
| ایک فقط ماں کا حق ادا نہیں ہو سکتا |
| وہ اکثر ناراض تو ہو جاتا ہے مگر |
| باپ کبھی بیٹے سے جدا نہیں ہو سکتا |
| چاہے کوئی کتنے کرشمے دکھاتا پھرے |
| پھر بھی میرے رب جیسا نہیں ہو سکتا |
| لاکھ حکیموں کے نسخے کھلا دو مگر |
| وصلِ یار کے جیسا دوا نہیں ہو سکتا |
| ہم فنا کے قیدی ہیں ہم کو فنا کے سوا |
| دنیا میں کوئی اور رستہ نہیں ہو سکتا |
| جس کی رگوں میں ہو گا حلالی لہو ساغر |
| اک وہ شخص کبھی بے وفا نہیں ہو سکتا |
معلومات