| اٹھا کر بوجھ باطل کا کہاں تک تم کو چلنا ہے |
| اگر رستہ بدلنا ہے تو پہلے خود بدلنا ہے |
| اگر کینہ، حسد کا بوجھ کاندھوں پر اٹھاؤ گے |
| بتاؤ اس گرانی میں سفر کیسے سنبھلنا ہے |
| لگا رکھے ہیں چہرے پر عجب جھوٹے کئی چہرے |
| یہ جھوٹا روپ آخر کار اک دن تو بدلنا ہے |
| ریا کاری کی چادر سے چھپے گا کب تلک باطن |
| سلگتے قہر نے تو شعلہ بن کر ہی ابلنا ہے |
| بھرا ہو دل حسد کی آگ سے تو چین کیسا پھر |
| اسی انگار پر تو روح کو دن رات جلنا ہے |
| اتارو بوجھ کاندھوں سے منافق کے تکبر کا |
| کہ تب جا کر قدم نے جادۂ نیکی پہ چلنا ہے |
| کھلے گی روشنی کی راہ تب عادلؔ تری خاطر |
| گھٹن کے اس سیہ زنداں سے جب تجھ کو نکلنا ہے |
معلومات