نہ ملاقات نہ اب شوقِ ملاقات رہا
وہ محبت نہ ہی وہ شعلہِ جذبات رہا
اب چلو ترک کروں خود کو میں آزاد کروں
مرے آنگن میں ترا دکھ کہ جو دن رات رہا
مجھ سے ملنے کو تڑپ جو تُو دکھاتا تھا کبھی
نہ وہ شدت نہ خیالوں میں مرے ساتھ رہا
میں بھی مغلوب رہا اپنی اناؤں کے سبب
رابطہ توڑنے میں تیرا بھی کچھ ہاتھ رہا
اب تو اچھی نہ لگے کوئی بھی موسم کی ادا
ویسی بارش نہ ہی وہ موسمِ برسات رہا
سوچتا ہوں کہ کہاں مجھ سے رہی کوئی کمی
کیوں کسی اور پہ وہ دستِ عنایات رہا
تیری تصویر رہی دل پہ جو اک بار چَھپی
عشق تیرا ہی مرا عکسِ خیالات رہا
تیری قربت ہی ہمایوں کے رہی پیشِ نظر
تجھ سے جو دور رہا باعثِ حالات رہا
ہمایوں

0
4