آرائشِ مکاں میں مکیں کو بھی دیکھنا
کعبے کو دیکھتے ہو جبیں کو بھی دیکھنا
کرتے رہو تلاش اسے کائنات میں
پوشیدہ خود میں یارِ حسیں کو بھی دیکھنا
رو بہ زوال ہیں سبھی یہ عظمتیں یہ شان
جو آسماں کو دیکھو زمیں کو بھی دیکھنا
گرچہ مسرتوں کے ہیں سامان بے شمار
اطراف میں تُو قلبِ حزیں کو بھی دیکھنا
رہتے مگن ہو خود پہ جو تم التفات میں
اندر مقیم گوشہ نشیں کو بھی دیکھنا
خود کی تلاش میں تُو ہمایوں بھٹکتا رہ
پہلو میں اپنے خاک نشیں کو بھی دیکھنا
ہمایوں

0
5