| اس پہ کیا رونا ہوا کے تو مری نا بن سکی |
| بانس کی ہر اک چھڑی تو بانسری نا بن سکی |
| خواہشوں میں ہے سمندر پار کرنے کا جنوں |
| اور ہنر کے ایک کشتی کاغذی نا بن سکی |
| عشق کر لو اور تنہائی میں بھی خوش تم رہو |
| آگ اور پانی کی جانم دوستی نا بن سکی |
| روک رکھا ہے مجھے رستے میں کالی رات نے |
| میری قسمت کے دیے کی روشنی نا بن سکی |
| سو غموں کو ایک برتن میں نچوڑا ہے مگر |
| پھر بھی میں حیران ہوں کے مفلسی نا بن سکی |
معلومات