اس پہ کیا رونا ہوا کے تو مری نا بن سکی
بانس کی ہر اک چھڑی تو بانسری نا بن سکی
خواہشوں میں ہے سمندر پار کرنے کا جنوں
اور ہنر کے ایک کشتی کاغذی نا بن سکی
عشق کر لو اور تنہائی میں بھی خوش تم رہو
آگ اور پانی کی جانم دوستی نا بن سکی
روک رکھا ہے مجھے رستے میں کالی رات نے
میری قسمت کے دیے کی روشنی نا بن سکی
سو غموں کو ایک برتن میں نچوڑا ہے مگر
پھر بھی میں حیران ہوں کے مفلسی نا بن سکی

58