جس کے پاؤں میں غم کا چھالا ہے
اُس نے کانٹوں کو بھی سنبھالا ہے
ظلم کی شب بھی ہم نے اے ہمدم
خون سے اپنے دِیپ پالا ہے
بات سچ ہے کہ دشتِ ہجرت میں
تیری یادوں کا ایک ہالا ہے
وہ جو کہتا تھا ساتھ دے گا مرا
وقت پڑنے پہ ہاتھ ڈالا ہے
کیسے کہہ دوں کہ وہ مِرا ہی ہے
جس نے نفرت کو دل میں پالا ہے
میرے لفظوں کی ہے یہ سچائی
بس تِرے عشق کا کمالا ہے
بند آنکھوں سے دیکھتا ہوں تجھے
دل میں الفت کا اک اجالا ہے

0
4