تمہارا دل جو سمجھائے تو کہنا
وہی دل تم کو بھٹکائے تو کہنا
یہ شہرت بھی بہت روشن لگے گی
کوئی اپنا نظر نہ آئے تو کہنا
وہ کرسی آج بھی خالی پڑی ہے
کسی کو یاد نہ آئے تو کہنا
تمہارے فون میں نمبر وہی ہے
کبھی انگلی نہ رک جائے تو کہنا
کھلی کھڑکی، ہوا، پردے کی جنبش
کوئی آہٹ نہ بن جائے تو کہنا
بہت آساں ہے رشتہ ختم کرنا
کوئی عادت نہ رہ جائے تو کہنا
تمہیں اس فیصلے پر ناز ہوگا
کبھی یہ دل جو پچھتائے تو کہنا
بہت بے خوف پھرتے ہو ابھی تم
کبھی اندر سے گھبرائے تو کہنا
سبھی دروازے تم گر بند کر لو
کوئی خواب اندر آ جائے تو کہنا
شاہدؔ اک دن خود سے بھی ملنا پڑے گا
کوئی پردہ نہ رہ جائے تو کہنا

0
2