| بھولیں گے سب کو ہم نے یہی حلفیہ کہا |
| اور پھر پرانی چاہتوں کا مرثیہ کہا |
| درکار اس قدر تھا سکوں ہم کو ہجر میں |
| ہم نے تمہاری یاد کو بھی تخلیہ کہا |
| پہنچا رہی ہے ہم کو مہک تیری جس طرح |
| بادِ صبا کو ہم نے ترا ڈاکیا کہا |
| ہم نے تو حمد نعت کبھی منقبت کہی |
| کس نے کہا کہ شعر فقط غزلیہ کہا |
| کچھ اس طرح جدید مضامین مل گئے |
| ہم نے ہر ایک بار نیا قافیہ کہا |
| تاروں کے ساتھ ہجر کی جب شام کٹ گئی |
| سورج دکھا تو ہم نے انہیں شکریہ کہا |
| جب عاشقی میں بھول گئے ہم خدا کو بھی |
| لوگوں نے سچ کہا جو ہمیں دہریہ کہا |
معلومات