جو اپنے آپ سے ملنے کا راستہ نکلا
تو زندگی کا نیا ایک سلسلہ نکلا
ہجومِ شہر میں چہرے تو بے شمار ملے
مگر جو دل کو سمجھتا تھا وہ جدا نکلا
چراغ بانٹنے والوں کا ذکر کیا کرنا
ہر ایک آپ اندھیروں میں مبتلا نکلا
ہمیں غرور تھا اپنے کمالِ دانش پر
سوال وقت نے پوچھا تو بس ہَوا نکلا
میں اپنے زخم چھپاتا رہا زمانے سے
مگر سکوت مرا درد آشنا نکلا
جو دوسروں کے لیے راستے بناتا رہا
وہ اپنے گھر سے ہی اک روز بے نوا نکلا
میں جانتا تھا کہ دنیا فریب دیتی ہے
مگر یہ دل ہی تھا کمبخت بے ریا نکلا
کسی کے درد کو اپنا سمجھ کے دیکھ کبھی
یہی تو آدمی ہونے کا مدّعا نکلا
جو روشنی کے ہی گن گا رہا تھا کل تک خود
عجب ہے آج وہ پرچھائیں سے خفا نکلا
خدا کو ڈھونڈنے نکلا تھا میں زمانے میں
جو دل میں دیکھا وہیں اس کا راستہ نکلا
نہ جاہ چاہیے طارق نہ مال و زر کی لگن
ہو جس بھی دل میں رضا رب کی وہ بڑا نکلا

0
5