| جب بھی یاد آیا ترا ہنس کر بچھڑنا، اے صنم |
| آنکھ سے خاموش آنسو خود نکلتے ہی رہے |
| جس طرف دیکھا، وہاں تیرا ہی چہرہ آ گیا |
| آئنے ہر موڑ پر ہم کو چھلتے ہی رہے |
| اپنی محرومی کو قسمت کا لکھا کہتے رہے |
| دل کے اندر کتنے ہی شکوے ابلتے ہی رہے |
| شام آئی تو تھکے سورج نے آنکھیں موند لیں |
| ہم مگر یادوں کی آگ میں رات جلتے ہی رہے |
| حسن خاں، اس زندگی کا بس یہی حاصل رہا |
| لوگ منزل پا گئے، ہم راہ چلتے ہی رہے |
| ہم نے سچ بولا تو دنیا نے ہمیں مجرم کہا |
| جھوٹ کے سکے زمانے بھر میں چلتے ہی رہے |
| شام تک جلتے رہے آخر کو ڈھلتے ہی رہے |
| درد کے سائے ہمارے ساتھ چلتے ہی رہے |
| جن کو ہم نے اپنے دل میں عمر بھر رکھا مکیں |
| وہ ہمارے سامنے چہرے بدلتے ہی رہے |
| ہم نے اپنی زندگی ان کے حوالے کر تو دی |
| وہ مگر ہر موڑ پر ہم کو پرکھتے ہی رہے |
| شام ڈھلتے ہی پرندے لوٹ آئے شاخ پر |
| ہم مسافر تھے سو منزل سے نکلتے ہی رہے |
| ایک مدت تک تمہاری راہ دیکھی اے صنم |
| دل کے ارماں آنسوؤں میں روز بہتے ہی رہے |
| ہم نے ہر الزام اپنے سر لیا خاموشی سے |
| لوگ پھر بھی محفلوں میں بات کرتے ہی رہے |
| دل کی بستی لٹ گئی کوئی خبر ہم کو نہ تھی |
| آشنا ہی آستیں میں میری پَلتے ہی رہے |
| زخم جتنے بھی ملے ہم نے چھپائے عمر بھر |
| لوگ اپنے فائدے کی بات کرتے ہی رہے |
| رات بھر آنکھوں میں روشن تھا تری یادوں کا چاند |
| غم کے بادل چاند کے آگے گزرتے ہی رہے |
| تیرے وعدوں پر یقیں کرنا ہماری بھول تھی |
| ہم یقیں کرتے رہے وعدے بدلتے ہی رہے |
| جن چراغوں کو بچایا ہم نے تیز آندھی سے بھی |
| وہ چراغ آخر ہمارے ہاتھ جلتے ہی رہے |
| ہر قدم پر زندگی نے امتحاں ہم سے لیے |
| ہم گرے پھر اٹھ گئے آگے کو چلتے ہی رہے |
| ہم نے اپنے خون سے سینچا محبت کا چمن |
| اور موسم پھول آنے پر بدلتے ہی رہے |
| دل شکستہ تھا مگر لب پر شکایت تک نہ تھی |
| دل کو تھامے ہم تری چاہت میں چلتے ہی رہے |
| اپنی منزل کی طلب دل میں لیے ہوئے حسن |
| لوگ رکتے رہ گئے ہم تو نکلتے ہی رہے |
معلومات