اُستاد کا فیضِ نظر دل میں مرے الہام کر
ہر ذہن کو روشن بنا ہر فکر کو پیغام کر
نادان نسلِ عصر کو آئینۂ کردار دے
اخلاق کو دستور کر اخلاص کو اکرام کر
سوئی ہوئی تقدیر کو آواز دے بیدار کر
ہر مرد مومن انساں کو تو صاحبِ اقدام کر
باطل کے ہر طوفاں میں تو سینہ سپر رہنا سکھا
ایمان کو فولاد کر عزمِ جواں پُرگام کر
تیری نظر سے آدمی پہچان لے اپنی خودی
ہر سانس کو تعمیر کر ہر لمحہ خوش انجام کر
یا رب مرے اُستاد کا رتبہ رہے تا روزِ حشر
اس کی دعا کو مستجاب اس کے سخن کو عام کر

0
5