آ گئے، آ گئے مُصْطَفٰی آ گئے
وہ حبیبِ خدا، مُجْتَبٰی آ گئے
چاند تارے بھی خوشیاں منانے لگے
بُت شکن، سَرْوَرِ انبیاء آ گئے
ابرِ رحمت کی چھائی گھٹا مومنوں
آج دنیا میں شمسُ الضُّحٰی آ گئے
ظلمتوں کا اندھیرا جہاں سے گیا
نور والے وہ نُورُ الہُدیٰ آ گئے
ان کے در سے نہ خالی گیا کوئی بھی
دینے والے شہِ دو سرا آ گئے
اے عتیقؔ اپنے رب کا شکر کیجیے
مومنوں کے وہ حاجت روا آ گئے

0
2