شبِ فرقت میں کاش ان کی ذرا الفت ہمیں ملتی
غمِ دل سے رہائی کی کوئی صورت ہمیں ملتی
نہ دن کو چین تھا ہم کو نہ شب کو سو سکے پل بھر
غمِ دوراں سے اک پل بھی اگر راحت ہمیں ملتی
جہاں بیگانگی کی دھوپ ہی پھیلی رہی ہر سو
اسی دنیا میں اپنوں کی کوئی رغبت ہمیں ملتی
وفا کے دشت میں ہم بھی سنوار آتے مقدر کو
کسی کے ساتھ چلنے کی اگر چاہت ہمیں ملتی
بدل دیتے مٹا کر ہم اداسی کے فسانے سب
قلم پر اپنے قسمت کی کوئی قدرت ہمیں ملتی
نہ رہتے یوں تہی دامن مئے الفت کے شیدائی
متاعِ شوق کی محفل میں کچھ قیمت ہمیں ملتی
ہمارے فن کو بھی دنیا سراہے دل سے اور مانے
سخن کی داد میں تھوڑی اگر شہرت ہمیں ملتی
ہمیں بھی دیکھ لیتے وہ کبھی پیار اور مروت سے
کرم کی اک نظر ہی گر بہ ہر صورت ہمیں ملتی
نہ دل میں حسرتیں ہوتیں نہ کوئی داغ ہوتا اب
سکوں سے سانس لینے کی اگر فرصت ہمیں ملتی
ستارہ اپنی قسمت کا کبھی تو جگمگا اٹھتا
دعاؤں کے عوض عادلؔ اگر قسمت ہمیں ملتی

0
13