ملو تم اب وفاؤں سے، صدائیں کام آئیں گی
جدائی کے اندھیروں میں ضیائیں کام آئیں گی
نہ کر اب فخر اتنا ان بدلتے وقت کے سُر پر
بگڑ جائے گی جب تالیں، صدائیں کام آئیں گی
جہاں میں کشتیاں اپنی ڈبو دیتے ہیں خود راہی
نہ ساحل کام آئے گا نہ لہریں کام آئیں گی
بنا لو پیار کے رشتے، مٹا دو دل کے زنگارے
یہ دنیا چھوڑ جاؤ گے تو یادیں کام آئیں گی
نہ دیکھو تم یہ مٹھی بھر ستارے اور یہ اونچے گھر
اندھیری قبر میں نیکو ! ادائیں کام آئیں گی
بچا کر رکھ لو تم کچھ اشک اپنی چشمِ گریاں میں
کڑی جب دھوپ اترے گی، گھٹائیں کام آئیں گی
اگر تم بانٹتے عادل جو خوشبو ہر کسی رخ پر
خزاں کے دور میں تم کو ہوائیں کام آئیں گی

0
5