| کسی نے ایسا اجاڑا ہے رو نہیں پاتے |
| بھلا کے اس کے ستم ہم تو سو نہیں پاتے |
| ہماری مان کے اب گھر کو لوٹ جاؤ تم |
| بہت سے خواب حقیقت میں ہو نہیں پاتے |
| سنبھالتے تو ہیں آنکھوں میں اپنے اشکوں کو |
| چھلک پڑیں وہ اگر، روک تو نہیں پاتے |
| ابھی بھی نیند سے راتوں کو جاگ اٹھتے ہیں |
| ہم اپنے پہلو میں جب آپ کو نہیں پاتے |
| کٹھن ہے راستہ عادل سنبھل کے چلنا تم |
| بھٹک گئے ہوں جو منزل کو وہ نہیں پاتے |
معلومات