بڑے بڑوں پہ یہ نکتہ آشکار نہیں
نظر کا فرق دلیلِ انتشار نہیں
ہمیں کو راس تھا ، دائروں میں چلتے رہے
ہمارے جرم کا کوئی ذمہ دار نہیں
مشیرِ خاص ہے دل، تو  یہ دروغ نہیں
یہ جس کے حق میں ہے اس کا اعتبار نہیں
اسی یقین پہ نقدِ جان وار دیا
مرا وجود کسی سے مستعار نہیں
کہو جو سوچتے ہو کوئی سنے نہ سنے
یہ کارِ فکرِ سخن ہے کاروبار نہیں

0
3