| مجھے بھی وہ سَگِ دَرْبَاں بنا لیتے تو اچھا تھا |
| نکمے کو وہ قدموں میں جگہ دیتے تو اچھا تھا |
| گناہوں کا اٹھائے پھر رہا ہوں بوجھ میں سر پر |
| مرے سر سے یہ بوجھ آخر ہٹا دیتے تو اچھا تھا |
| میں ٹھوکر کھا کے گرتا ہوں سنبھلنا بھی نہیں آتا |
| وہ اپنے دست رحمت سے اٹھا دیتے تو اچھا تھا |
| میں اپنے عیب گنتا ہوں تو آنکھیں جھک ہی جاتی ہیں |
| مرے عیبوں پہ وہ پردہ گرا دیتے تو اچھا تھا |
| یہ دل دنیا کی چاہت میں بہت برباد ہو بیٹھا |
| دکھا کر اک جھلک اپنا بنا لیتے تو اچھا تھا |
| نہیں قابل نہیں عتیق تو ان کی غلامی کے |
| غلاموں کی غلامی میں بٹھا دیتے تو اچھا تھا |
معلومات