| محبت کے چراغوں کو ستم سے کیوں بجھاتے ہو |
| درِ مقتل پہ کیوں بھائی کو اپنے تم بلاتے ہو |
| کتابِ حق تو کہتی ہے کہ ہے انسان اشرف ہے |
| یوں انسانی سروں کو کیوں سرِ نیزہ سجاتے ہو |
| جہاں تعلیمِ حق یہ تھی کہ الفت عام ہو جائے |
| وہیں اب نفرتوں کی خارداریں کیوں لگاتے ہو |
| عدالت بن گئے خود سے ہی، خود جلاد ٹھہرے تم |
| خدا کا کام ہے جو، تم وہ اپنے ہاتھ لاتے ہو |
| یہ مسجد ہو کہ مندر ہو، سبھی تو گھر ہیں خالق کے |
| خدا کے گھر بھی اپنے بغض سے کیوں تم جلاتے ہو |
| خدا کی بندگی چھوڑو، خدا بننے سے بچ جاؤ |
| تو کیوں تم یہ ستم اپنے ہی اوپر آپ ڈھاتے ہو |
معلومات