| عطائے نبی کا نہیں ہے کنارا |
| گھرانہ سخی کا ہے فیاض سارا |
| کریمِ جہاں ہیں پسر سیدہ کے |
| حسیں کا یہ گلشن خدا کو ہے پیارا |
| نہ ڈھونڈیں خلق میں مثالِ نبی کو |
| ہے پکا جہاں میں نبی کا اجارہ |
| عطائے کریمی کے ڈنکے ہیں اونچے |
| عُلیٰ ذکر اُن کا دہر کا ہے نعرہ |
| مدینہ منور جو منزل ہے میری |
| حسیں یادیں اس کی دلوں کا سہارا |
| یہ ناؤ کبھی تھی بھنور میں جو آئی |
| وہ آئی کنارے انہیں جب پکارا |
| ہیں محمود احساں نبی کے جہاں پر |
| شفاعت نبی کی ہے محشر میں چارہ |
معلومات