عطائے نبی کا نہیں ہے کنارا
گھرانہ سخی کا ہے فیاض سارا
کریمِ جہاں ہیں پسر سیدہ کے
حسیں کا یہ گلشن خدا کو ہے پیارا
نہ ڈھونڈیں خلق میں مثالِ نبی کو
ہے پکا جہاں میں نبی کا اجارہ
عطائے کریمی کے ڈنکے ہیں اونچے
عُلیٰ ذکر اُن کا دہر کا ہے نعرہ
مدینہ منور جو منزل ہے میری
حسیں یادیں اس کی دلوں کا سہارا
یہ ناؤ کبھی تھی بھنور میں جو آئی
وہ آئی کنارے انہیں جب پکارا
ہیں محمود احساں نبی کے جہاں پر
شفاعت نبی کی ہے محشر میں چارہ

0
1
4
آپ کی نعت کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عطا، رحمت اور سخاوت کی کوئی حد نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بے مثال مقام عطا فرمایا ہے اور دنیا میں آپ ﷺ جیسی کوئی ہستی نہیں۔ آپ ﷺ کا ذکر ہمیشہ بلند ہے اور پوری دنیا میں گونجتا ہے۔ شاعر مدینہ کی محبت کو اپنی روحانی منزل قرار دیتا ہے اور بیان کرتا ہے کہ زندگی کی مشکلات میں جب رسول اللہ ﷺ کو پکارا جائے تو اللہ تعالیٰ نجات عطا فرماتا ہے۔ آخر میں شاعر امید ظاہر کرتا ہے کہ قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت ہی انسانوں کے لیے سب سے بڑا سہارا ہوگی۔

0