ہم ہیں شاعر شعور رکھتے ہیں
دل غزل کے حضور رکھتے ہیں
ہم جواہر سے قیمتی ہیں مگر
چند ساتھی ضرور رکھتے ہیں
ہم بھلا تیرگی سے ڈر جائیں
روشنی کا شعور رکھتے ہیں
دل طوائف کی سمت مائل ہے
جبکہ پہلو میں حور رکھتے ہیں
  آپ میں یہ بڑی خرابی ہے
آپ دل میں فتور رکھتے ہیں
ہے سلیقہ جنہیں عبادت کا
سر کو رب کے حضور رکھتے ہیں
حسن پر ناز ہے اگر ان کو
ہم بھی چہرے پہ نور رکھتے ہیں
خاک ہونا ہے ایک دن اظہر
لوگ پھر بھی غرور رکھتے ہیں

0
1