جو مدتوں تیرے شہرِ الفت سے میں جدا تھا
تجھے پتہ ہے کہ تیری یادوں سے رابطہ تھا
میں سوچتا ہوں جو ساتھ گزرے ہوئے دنوں کو
تو خود سے کہتا ہوں کتنا دل کش وہ سلسلہ تھا
اداس تجھ کو جو دیکھتا دل اداس ہوتا
تو خوش دکھے تو یہ دل ترے ساتھ ناچتا تھا
سنوارتا تھا میں وقتِ رخصت جو زلف تیری
تو میرے جانے کے بعد گھر کو سنوارتا تھا
مگن تھے ایسے ہم ایک دوجے کی چاہتوں میں
کوئی جو دیکھے تو ایک جاں ہم کو جانتا تھا
ہماری آپس میں جس طرح سے بنی ہوئی تھی
تو کیا برا تھا جو ساتھ رہنے کا فیصلہ تھا
کمال ہے جو بچھڑ کے بھی اپنی کٹ گئی ہے
مجھے نہیں تھا، بتا تجھے اتنا حوصلہ تھا

0
3