سجی مسلکوں کی دکاں دیکھتا ہوں
کہیں اور کب ہیں جو یاں دیکھتا ہوں
رگوں میں لہو کی بجائے یہاں تو
ہے فرقہ پرستی رواں دیکھتا ہوں
کرپشن حکومت کا ہے لازمی جز
افیسر ہیں سب بد زباں، دیکھتا ہوں
ہیں دہشت زدہ ان سے سب عام شہری
سیاست کا جو کارواں دیکھتا ہوں
غلاموں کو آتا ہے نعرے لگانا
نہیں ذوقِ آہ و فغاں، دیکھتا ہوں
کبھی امن آتا ہے مہمان بن کر
وگرنہ لہو اور دھواں دیکھتا ہوں
خدایا کرم کر تو اہلِ چمن پر
بہت سے نئے آشیاں دیکھتا ہوں

0
1