| یہ جو لفظ ہے تَوَکُّل یہ بڑا ہی کارگر ہے |
| ہُوا آشنا جو اس سے وہی دل قرار پاۓ |
| تجھے بے قرار پاؤں یہ مزے کی بات ہوگی |
| ہو تلاش میں تُو اسکی تو اسے فرار پاۓ |
| ہے یہ کیسی چارہ سازی نہ دوا ہے نا دعا ہے |
| تو بھی میری طرح تجھ سا کوئی غم گسار پاۓ |
| اسے دل سے تو لگانا ہے یہ فعل عارفانہ |
| کسی شخص کو اگر جو کبھی اشک بار پاۓ |
| ابھی وقت ہے میسر ابھی آ کے کر لو پرسش |
| کہیں یوں نہ ہو کہ اک دن مجھے تار تار پاۓ |
| ہے لہو کا رنگ میرا کئی زخم میں نے کھاۓ |
| کئی تیر میں نے تیرے ہیں جگر کے پار پاۓ |
| تیری تیرگی کے خوگر شبِ غم جو لوگ دیکھے |
| جو بھی مبتلا ہیں تیرے سبھی دلفگار پاۓ |
معلومات