آقا حبیب میرے ہر درد کی دوا ہیں
مولا کے پیارے دلبر دلدارِ انبیا ہیں
دیکھی بلائیں ٹلتی مختار کے کرم سے
میرے دکھوں کی یارو سرکار ہی دوا ہیں
آقا کی ہر رضا میں راضی رہے خدا بھی
رازوں سے کبریا کے سرکار آشنا ہیں
اُن کی سرشت میں ہے کونین کی بھلائی
محبوب کبریا ہیں سالارِ انبیا ہیں
تاباں ضمیرِ ہستی انوارِ مصطفیٰ ہیں
جن کے علم میں رہتے اسرارِ کبریا ہیں
رونق جہان میں سب سرکار کے لئے ہے
سرکار ہیں جو ہادی دلدار جانِ ما ہیں
ہستی میں رونقیں سب اُن کے ورود سے ہیں
محمود شاہِ خوباں تیرا بھی آسرا ہیں

1
4
نعتِ رسولِ مقبول ﷺ — ایک تعارفی خلاصہ
یہ نعتِ پاک بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں عقیدت و محبت کا ایک دلنشین اور والہانہ ہدیہ ہے۔ کلاسیکی بحر (بحرِ ہزج) میں کہی گئی اس نعت کا ہر شعر حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے والہانہ وابستگی اور ان کی عالمگیر رحمت کا عکاس ہے۔

مرکزی موضوعات اور فکری پہلو:

شافعِ محشر اور دافعِ بلا: مطلع اور ابتدائی اشعار میں شاعر نے بڑے خوبصورت انداز میں یہ اعتراف کیا ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہی امت کے تمام دکھوں کا مداوا اور ہر مصیبت کو ٹالنے کا وسیلہ ہے۔

مقامِ مصطفیٰ ﷺ اور تسلیم و رضا: نعت میں اس اعلیٰ نظریے کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اللہ رب العزت کی رضا، رسولِ پاک ﷺ کی رضا میں پنہاں ہے، اور کائنات کے تخلیقی اسرار صرف آپ ﷺ کی ذات پر عیاں ہیں۔

محورِ کائنات: نعت کا یہ پہلو خاص طور پر نمایاں ہے کہ اس جہاں کی تمام رونقیں، چہل پہل اور وجودِ ہستی کا نور صرف اور صرف انوارِ مصطفیٰ ﷺ اور آپ ﷺ کی آمد (ورود) کے طفیل ہے۔

عاجزی اور التجا: مقطع میں شاعر (محمود) نے اپنے روایتی تخلص کے ساتھ عاجزی کا اظہار کرتے ہوئے خود کو 'شاہِ خوباں' ﷺ کے آسرے اور شفاعت کا طلبگار پایا ہے۔

ادبی محاسن:
تکنیکی لحاظ سے اس نعت میں قوافی اور ردیف کا استعمال بہت متوازن ہے۔ فارسی اور اردو تراکیب (جیسے دلدارِ انبیا، اسرارِ کبریا، اور جانِ ما) نے کلام کی روانی اور صوتی حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ یہ کلام نہ صرف فنی اصولوں پر پورا اترتا ہے بلکہ سننے اور پڑھنے والے کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کی شمع فروزاں کرتا ہے۔

0