چلو دل کی بستی بسا کر تو دیکھو
کبھی رسمِ الفت نبھا کر تو دیکھو
​گھٹا غم کی چھائی ہوئی ہے دلوں پر
ذرا شمعِ چاہت جلا کر تو دیکھو
​ہوائیں ہیں نفرت کی چلتی ہر اک سو
گھروں کو وفا سے سجا کر تو دیکھو
​یہ دنیا تو پتھر کی صورت کھڑی ہے
اسے گیت کوئی سنا کر تو دیکھو
​تمہیں مل ہی جائے گی منزل یقیں ہے
درِ یار پر سر جھکا کر تو دیکھو
​ملے گا تمہیں بھی سکونِ مسلسل
انا کو ذرا تم مٹا کر تو دیکھو
​بہت شادؔ تنہا رہے ہو جہاں میں
کسی کو گلے سے لگا کر تو دیکھو

0
1