کسی نے مری رہ بنا کر کہا تھا
کہ اب تو اسی پر ہمیشہ چلے گا
مجھے بھی یہی رہ مقدر لگی تھی
مگر یہ مری آرزو ہی کہاں تھی
کسی کی خوشی کے لیے میں جھکا تھا
ہمیشہ اسے ہی عبادت کہا تھا
مری آرزو اب نجانے کہاں تھی
مجھے کب خبر تھی کہ میں بھی یہاں تھا
رہائی ملی تو مجھے یوں لگا تھا
کہ برسوں پرانا قفس تھا مرا دل
کسی نے کہا تھا کہ اب تو چلا جا
مگر میں اسی در پہ خود ہی کھڑا تھا

0
4