| ہم اپنے آپ سے بچ کر کہاں نکلتے ہیں |
| جہاں بھی جائیں، وہیں خود سے آ کے ملتے ہیں |
| عجیب عمر ہے، اک دن بھی جی نہیں پاتے |
| مگر یہ سال ہیں، چپ چاپ جو نکلتے ہیں |
| وہ جس کے بعد ہمیں زندگی بدلنی تھی |
| اسی کی یاد میں ہر بار خود میں ڈھلتے ہیں |
| تمہارے بعد یہ معلوم ہو گیا ہم کو |
| چراغ بجھ بھی گئے پھر بھی داغ جلتے ہیں |
| یہ کس نے کہہ دیا تنہائی ختم ہوتی ہے |
| ہم اپنے آپ سے مل کر بھی کب بہلتے ہیں |
| ہم اپنے آپ کو پہچاننے سے ڈرتے ہیں |
| سو آئنے کے مقابل سے روز ٹلتے ہیں |
| ہمیں یقین تھا دنیا بدل ہی جائے گی |
| مگر یہ لوگ ہیں، ہر روز جو بدلتے ہیں |
| خدا سے بحث کا انجام کچھ نہیں نکلا |
| ہم اپنے وہم کی آتش میں روز جلتے ہیں |
| ہم اپنی ذات سے واقف ہوئے تو یہ دیکھا |
| ہمارے من میں بھی کتنے ہی لوگ پلتے ہیں |
معلومات