زمانہ وہ پرانا تھا، حقیقت سب دکھاتے ہیں
یہ دورِ نو ہے اب جس میں سبھی فلٹر لگاتے ہیں
وہاں ملنا ہی ملنا تھا، تو دل بھی صاف رہتے تھے
وٹس اپ ہے یہاں اپنا، کہاں ہم پاس آتے ہیں
وہاں گر چھینک لیتے تو سبھی کا دل تڑپتا تھا
انسٹا پر سبھی اب دکھ سٹیٹس پر دکھاتے ہیں
وہاں خط کی عبارت میں بڑی انمول چاہت تھی
یہاں ڈی پی بدلتی ہے، نئے قصے سجاتے ہیں
وہاں بس ایک پی ٹی وی، سو اکٹھے بیٹھ جاتے تھے
یہاں پر سیل(cell) میں گم سم ، سو تنہا غم مناتے ہیں
وہاں مہمان آتا تھا، تو برکت گھر میں لاتا تھا
یہاں جب بیل بجتی ہے، تو ہم لائٹ بجھاتے ہیں
تھکن پہلے کی اچھی تھی، کہ جس میں نیند آتی تھی
کڑی اب غم کی قسطیں ہیں، کہاں اب خواب آتے ہیں

0
1