گونجتی ہے الست کی جو صدا
روح نے تب کہا تڑپ کے، بلیٰ
دل کو دیوانہ کر گئی آخر
حُسنِ مطلق کی دل نشیں اک ادا
چھوڑ کر لامکاں کی وسعت کو
بن گیا خاک کا اسیرِ فنا
یہ جہاں اک سراب ہے پیارے
عشق میں ہے فقط حیات و بقا
شادؔ کے حال پر کرم یارب!
لب پہ اس کے ہے بس یہی اک دعا

0
6