| کہاں ان اشکوں سے غم کا پہاڑ ٹوٹے گا |
| لبوں کو کھول مچل کے دہاڑ ٹوٹے گا |
| سجائے رکھتے ہیں مسکان اپنے چہرے پر |
| کبھی تو اُنکی اناؤں کا راڑ ٹوٹے گا |
| کھلیں گے پھول محبت کے پھر سے دونوں طرف |
| ہمیں یقیں ہے دلوں کا بگاڑ ٹوٹے گا |
| بہت ہے ناز انہیں اپنے ضبطِ دل پر ابھی |
| وہ دن بھی آئے گا جب یہ کواڑ ٹوٹے گا |
| چلو یہ مان لیا دل نہیں ہے شیشہ مگر |
| کرو نہ اتنی بھی تم چھیڑ چھاڑ، ٹوٹے گا |
| پروتے رہنے سے احساس ہوں نہ دفن کہیں |
| نہ مردہ ہو انہیں مٹی میں گاڑ، ٹوٹے گا |
| یہ آس بھی لیے جاتی ہے اسکے در پر امید |
| اگر جو ٹوٹا تو کوڑا کباڑ ٹوٹے گا |
| نہ توڑ اے دلِ بےحس امیدوں کے یہ فصیل |
| کسی کی آنکھ میں اشکوں کا باڑ ٹوٹے گا |
معلومات